کاروار 31/ اگست (ایس او نیوز) اس مہینے کی شروعات میں ہفتہ عشرہ تک موسلادھار بارش اور سیلاب نے ضلع شمالی کینرا میں قہر برپا کردیاتھا۔ پھر کچھ دنوں کے لئے بارش میں کمی آگئی تھی اور سیلاب سے متاثرہ افراد اپنی بکھری زندگیوں کو بحال کرنے میں لگ گئے تھے۔
مگرجمعرات سے تیز برسات کاسلسلہ دوبارہ شروع ہوا ہے تو جمعہ کے دن ضلع کے مختلف علاقوں میں پھر سیلاب آگیا ہے، اور عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔ انکولہ کے شیٹاگیری گاؤں میں 167ملی میٹر بارش ریکارڈکی گئی، جو کہ جمعہ کے دن پوری ریاست میں ہونے والی سب سے زیادہ بارش ہے۔ہوناور تعلقہ میں کچھ گھنٹوں کے لئے بھاری برسات سے ڈوڈہلّا ندی میں سیلاب آگیا اور منکی اور اطراف دیہات پانی میں ڈوب گئے۔دوپہر کے وقت اچانک ندی کا پانی گھروں میں گھسنے سے لوگ خوفزدہ ہوگئے۔
منکی اور اطراف میں سیلاب کی خبر ملتے ہی بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر ساجد ملا، ہوناور تحصیلدار، پولیس اور دوسرے محکمہ جات کے افسران فوری طور پر اس علاقے میں پہنچے اور عوام کے تحفظ اور راحت کے لئے تدابیر کی گئیں۔اسی طرح ہوناور کے کرکی اور ناجاگر کے کچھ نشیبی علاقے میں بھی سیلاب جیسی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔ گنڈبال ندی کے کنارے رہنے والے لوگ بھی ندی میں سیلاب آنے کی وجہ سے خوف و ہراس کا شکار ہوگئے۔جبکہ کمٹہ تعلقہ میں اگناشینی ندی کے کنارے بسنے والوں نے موسم کے بدلتے تیور دیکھتے ہوئے پیشگی احتیاط کا مظاہرہ کیا اور محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے۔لیکن ندی میں پانی کی سطح بڑھنے کے باوجود پانی رہائشی علاقوں میں داخل نہیں ہوا۔شام کے وقت جب بارش کا زور کچھ کم ہوا تو پانی کی سطح بھی نیچے اترنے لگی جس سے عوام نے راحت کی سانس لی۔
انکولہ سے ملنے والی ایک خبر کے مطابق یہاں بیلی ہوئنگی نامی مقام پر تیز بارش کے نتیجے میں ایک مکان منہدم ہوگیا۔یہ رودرو دیو ہری کنترا نامی شخص کی ملکیت والا وہ مکا ن ہے،جو کہ اگست کے پہلے ہفتے میں آئے ہوئے سیلاب کے دوران پانی میں ڈوب گیا تھا۔گھر منہدم ہونے سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا البتہ گھریلو ساز وسامان برباد ہوگیا ہے۔